اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے صدر جوزف عون نے پیرس میں لبنانی فوج اور داخلی سکیورٹی فورسز کی حمایت کے لیے منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے ابتدائی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج لبنان ایک تباہ کن جنگ میں گھرا ہوا ہے جس کی بھاری قیمت عوام ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 4 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں اور جنوبی لبنان کے شہر منظم تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔
لبنان کے صدر نے مزید کہا کہ طبی عملہ، امدادی کارکن، صحافی، سرکاری ادارے اور مذہبی مقامات بھی اسرائیلی جارحیت سے محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت میں اقوام متحدہ کی امن فوج بھی متاثر ہوئی ہے، جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ موقع زیادہ دیر تک باقی نہیں رہ سکتا اور اس سے درست انداز میں فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
جوزف عون نے کہا کہ مقصد کسی نئے بحران کا انتظام کرنا نہیں بلکہ موجودہ موقع کو لبنان کو ایک مختلف راستے پر ڈالنے کے لیے استعمال کرنا ہے، ایسا راستہ جو ایک مضبوط ریاست اور مؤثر اداروں پر مبنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسی مرحلے پر لبنانی فوج اور سکیورٹی فورسز کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دردناک حقیقت کے ساتھ ساتھ آج ریاست کی تعمیر نو، اس کے اداروں کے کردار کی بحالی اور ملک میں ضروری اصلاحات آگے بڑھانے کے لیے واضح ارادہ بھی موجود ہے، جس کے لیے حکومت اپنے تمام ارکان کے ساتھ پُرعزم ہے۔
لبنانی صدر نے کہا کہ اسی دوران خطہ بھی گہری تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا ہے اور اگر ان تبدیلیوں کو درست انداز میں سنبھالا جائے تو یہ ماضی کی دہائیوں کے تجربات سے مختلف حقیقی تعمیر کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار لبنان کے اندر ریاست کی تعمیر کے لیے موجود داخلی ارادے کو علاقائی اور بین الاقوامی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔
جوزف عون نے اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم کا اس اقدام اور لبنان کی سلامتی، استحکام اور قانونی اداروں کی حمایت کے لیے شراکت داروں کو ایک جگہ جمع کرنے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے میں ان کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔
آپ کا تبصرہ